Home » نئی پارلیمنٹ :نئے بھارت کی ضرورت
Home

نئی پارلیمنٹ :نئے بھارت کی ضرورت

نئی پارلیمنٹ :نئے بھارت کی ضرورت

جنوری کی آمدکے ساتھ ہم 21ویں صدی کے 21ویں سال میں داخل ہوگئے ہیں ۔ یہ ہندوستان کی ترقی کے تناظرمیں اس کے 21ویں صدی کا قائد بننے کا ایک اہم موقع ہے ۔ شہریوں کی خواہشات کی تکمیل میں قوم ایک تبدیلی کے سفرکا مشاہدہ کررہی ہے ۔ پچھلی صدی کی اسی دہائی میں کئی سنگ میل قائم ہوئے تھے جو بعد میں قومی اہداف کو حاصل کرنے کے لئے انتہائی اہم پہلورہے ۔ اس نئے عہدمیں مستقبل کی منصوبہ بندی ملک کو ترقی کی شاہراہ پربہت دورتک لے جانے کی راہ ہموارکرے گی ۔پارلیمنٹ کی نئی بلڈنگ کا افتتاح ملک کی ترقی کو وسیع سطح پر لے جانے کا ایک اہم موڑ ثابت ہوگا۔

گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ 1919کا نفاذ کہ جس میں ہندوستانیوں کو حکومت میں شامل ہونے کا موقع ملا ، مونٹاگ ۔چیمس فورڈ اصلاحات کا نتیجہ تھا اور 1919کے اسی ایکٹ کے ذریعہ پہلی بار عوامی نمائندوں کا انتخاب ہوا۔ اس موقع پر ان کی رہائش اورموجودگی کے لئے کسی عمارت کی ضرورت ہے ۔ چنانچہ مرکزی اسمبلی نے موجودہ دہلی قانون سا ز اسمبلی سے اپنا کام شروع کیا۔

ایک صدی پہلے ان اصلاحات کے نتیجے میں ایک زوایوانی قانون سازی کی شکل میں تعمیر کا کام شروع ہوا۔ قانون سازوں کی رہائش کے لئے ایڈون اور ہربرٹ بیکر نے موجودہ پارلیمنٹ کی عمارت کا ڈیزائن تیارکیا۔ اس کی تعمیرکاآغاز 1921میں ہوا اورپوری عمارت کے بننے میں 6سال کا عرصہ لگا۔ پہلی لوک سبھا میں 489نشستیں تھیں اور ہرممبرپارلیمنٹ اوسطاً7لاکھ کی آبادی کا نمائندہ ہوتاتھا۔ اس وقت قومی دارلحکومت کی کل آبادی مشکل سے 13-14لاکھ تھی ، جو اب بڑھ کر 2.5کروڑسے زیادہ ہوگئی ہے ۔ ملک کی آبادی بھی جو 1951میں 36.1کروڑتھی ، بڑھ کر اب 135کروڑسے تجاوزکرگئی ہے ۔ چنانچہ نمائندگی کرنے والے   ممبران پارلیمنٹ کی تعداد میں بھی اضافہ ہوچکاہے ۔ ممبران پارلیمنٹ کوروزانہ کے امورکا نظم کرنے کے ساتھ ساتھ ترقیاتی منصوبوں اوراسکیموں  کی نگرانی بھی اپنے کیمپ دفاترسے کرنی ہوتی ہے ۔ ایسے میں ایک ایسے ادارہ جاتی اور بنیادی ڈھانچے کے سیٹ اپ کی ضرورت محسوس ہوئی ۔ جہاں سے وہ متعدد اداروں کے ساتھ باآسانی اشتراک کرسکیں اور قومی راجدھانی میں عوامی خدمات کی فراہمی کو باآسانی یقینی بناسکیں ۔

پارلیمنٹ کے لئے نئے ڈھانچے کا خیال کوئی نیانہیں ، اس سے قبل دوسابق اسپیکر اس کی ضرورت پر خاطرخواہ روشنی ڈال چکے ہیں ۔ 1927میں کہ جب سے موجودہ ڈھانچے میں کام شروع ہواپارلیمانی اسٹاف ، ذاتی محافظین ، میڈیاکے نمائندوں اور پارلیمانی سرگرمیوں میں تیزی سے اضافہ ہواہے ۔ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے دوران مرکزی ہال پوری طرح بھراہوتاہے ۔ اور کچھ ممبروں کو توالگ سے لگائی گئی کرسیوں پر بھی بیٹھنا پڑتاہے، بہرحال تعمیراتی رکھ رکھاؤ، تبدیلی اورجدیدکاری کے حوالے سے بہت ساری حدود ہیں کیونکہ پارلیمنٹ کی یہ عمارت ہمارے ثقافتی ورثے کے زمرہ نمبر ۔1میں شامل ہیں ۔موجودہ پارلیمنٹ کی عمارت میں بہت سے حفاظتی ایشوز کی کمی ہے ۔ مثال کے طورپر اس کا زلزلہ پروف نہ ہونا ، آگ زنی سے بچاؤکا معیاری نظام نہیں ہونا  اوردفاترکے لئے جگہ کی کمی وغیرہ وغیرہ ۔ 2012میں اس وقت کی لوک سبھا اسپیکر میراکمارنے ایک نئی پارلیمنٹ بلڈنگ کی منظوری پر یہ کہہ کر زوردیاتھا کہ موجودہ پارلیمنٹ کی عمارت بہت پرانی ہوچکی ہے اور کثرت سے اس کااستعمال ہوچکاہے ۔ اسی طرح 2016میں سابق اسپیکر سمترامہاجن نے دیہی ترقیات کی وزارت کو نئی پارلیمنٹ عمارت کی تعمیر کے لئے اقدامات کرنے کی تجویز دی تھی ۔  چیئرمین راجیہ سبھا ایم وینکیا نائیڈو، لوک سبھا اسپیکراوم برلا ، اور مرکزی شہری ترقیات کے وزیرہردیپ سنگھ پوری نے مجوزہ نئی پارلیمنٹ کے لئے ممبران پارلیمنٹ اور دوسرے اسٹیک ہولڈرس سے صلاح ومشورہ کیا اورمرکزی وسٹاپروجیکٹ کا خاکہ تیارہوا۔

آئین ہند کی دفعہ 81پارلیمانی نشستوں کی حدبندی ہرجواز پیش کرتی ہے ۔آخری حدبندی 1971کی مردم شماری کی بنیاد پر کی گئی تھی اور 2006تک ریاست وار سیٹوں کی تقسیم میں اب بہرحال اضافہ ہوناہے ۔ جس کے نتیجے میں ممبران پارلیمنٹ کی تعداد میں بھی بلاشبہ اضافہ ہوگا۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ آنے والے قانون سازیہ کے ممبروں کے رہنے سہنے کا مناسب انتظام کیاجائے ۔

یہ وزیراعظم نریندرمودی کی دوراندیشی ہے کہ انھوں نے آزادی کے 70سال بعد پارلیمنٹ کی نئی عمارت قوم وقف کی ۔ اس سے آتم نربھربھارت کے مشن کو بھی فروغ حاصل ہوگا ۔سینٹرل وسٹاپروجیکٹ کے تحت پارلیمنٹ کی نئی عمارت کی تعمیر جن خطوط پرہوگی اس میں ملک کی تہذیب وثقافت کو خاص طورپر نمایاں کیاجائے گا۔ اس سے بلاشبہ ایک بھارت –شریشٹھ بھارت کی روح کو تقویب ملے گی ۔ اس مندرکو راجستھان کے لال دھول پور پتھرایک نیا رخ دیں گے اور یہ دیکھنے میں بھی پرکشش ہوگا۔ اس میں کافی جگہ ہوگی، سب کچھ سبز ہوگا اورعمارت ، تکنالوجی اور دوسری آلات سے پوری طرح لیس ہوگی اوراس میں 1224ممبران پارلیمنٹ کے بیٹھنے کی جگہ ہوگی ۔ پارلیمنٹ اورمختلف حکومتی اداروں کے مابین براہ راست تعلق ہوگا جس سے وقت بھی کم صرف ہوگا اور سالانہ 1000کروڑکاسرکاری خرچ بھی بچے گا۔

 بھارت جمہوری قدروں سے مزئین ہے اورہماری ثقافتی قدریں بھی بہت قیمتی ہیں ۔ یہ 12ویں صدی کی بھگوان بشیشراکی انوبھؤمنتپاہو یا چھٹی دہائی کا بودھ ازم ہو ۔ اس نے ہمیں جمہوری قدروں کے ساتھ مل کر رہنا سکھایاہے ۔ مثال کے طورپر آزادی ، مساوات اور یکجہتی کا سبق ہم نے پوری دنیا کو دیاہے ۔ ڈاکٹربھیم راو امبیڈکر منتخب شدہ اسمبلی کے مباحث میں ان حقائق کو زورشورسے اٹھاتے تھے ۔ امریکہ میں موجودہ پارلیمنٹ کی عمارت آزادی کے 25سال کے اندرہی بن کر تیارہوئی ۔ آسٹریلیا اوربرازیل نے بھی نوآبادکاری کے بعد نئی عمارتیں تعمیرکرلیں ۔ ہمیں بھی نوآبادکاری عہدکے بعد اپنی ترقی کا تاریخی طورپرتجزیہ کرناہوگا۔ اس کے ساتھ ہی سب سے بڑی جمہوریت کی عوام  کی پارلیمنٹ کے تعلق سے بھی نئے ذہن سے سوچنا ہوگا۔ یہ شاندارمنصوبہ بھارت کی جمہوری روایت کے سفر کو وقف ہوگی اورحقیقی معنوں میں یہ بھارت کو جمہوریت کی ماں کے طورپر پیش کرے گی۔

21ویں صدی کے چیلنجز 19ویں اور20ویں صدی کی حکمرانی سے فارمولے سے حل نہیں ہوں گے ۔ اس کے لئے ہمیں مثبت انداز اورصحیح تناظرمیں کام کرنا ہوگا۔ اپنی اصلاحات ، کارکردگی اور جمہوری قدروں کو مضبوط کرنے والی تبدیلی کے توسط سے ہندوستان علم اورمعیشت میں سپرپاور بننے کی راہ پرگامزن ہے ۔سپریم کورٹ نے سینٹرل وسٹاپروجیکٹ کو جاری رکھنے کے لئے حکومت کو گرین سگنل دے دیاہے ۔ جس کا استقبال کیاجاناچاہیئے ۔ حکومت نے یہ وضاحت کردی ہے کہ تعمیر کے تعمیردوران والا معیاراورماحولیات کے تعلق سے انتہائی حساس ہوکر کام کرے گی ۔

آج ضرورت  اس بات کی ہے کہ تمام اسٹیک ہولڈراپنے حقوق کو لے کر بیدارہوں اورجمہوری اداروں کی اہلیت اورطاقت کو مضبوط کرنے کے لئے انفرادی اوراجتماعی طورپر اپنا تعاون پیش کریں تاکہ تمام قومی نشانوں کو پورا کیاجاسکے ۔ پارلیمنٹ کی نئی عمارت تعمیر کرنے کا فیصلہ آتم نربھربھارت کی ایک علامت ہے اوریہ آزادی کے 75سال پورے ہونے پرہندوستانی جمہوریت کے تئیں ایک خراج عقیدت ہے ۔ اس سے ہمیں قومی مفادات کو سب سے بالا تررکھنے کی تحریک ملے گی ۔ جمہوریت کے اس مندر کی روح کے عین مطابق ہرشخص کو بھارت کی خوشحالی کے لئے اپنی کاوشوں کا آغاز کردینا چاہیئے۔

**

About the author

SK Vyas

9 Comments

Click here to post a comment
  • I have to show appreciation to this writer for rescuing me from this particular issue. After scouting throughout the online world and coming across tips that were not productive, I believed my entire life was well over. Being alive minus the answers to the issues you’ve fixed as a result of your good article content is a critical case, as well as the ones which may have in a wrong way damaged my entire career if I hadn’t discovered your website. Your own expertise and kindness in playing with a lot of stuff was vital. I am not sure what I would’ve done if I hadn’t come upon such a thing like this. It’s possible to now look forward to my future. Thanks so much for your impressive and effective help. I won’t be reluctant to endorse your blog to any individual who ought to have counselling about this topic.

  • I am writing to let you know of the notable encounter my child experienced checking your webblog. She figured out a wide variety of pieces, with the inclusion of what it is like to possess a very effective helping mindset to let men and women really easily fully grasp a number of tortuous subject matter. You really did more than my expectations. Thank you for coming up with those productive, trustworthy, informative and cool tips about the topic to Jane.

  • I want to express appreciation to the writer for bailing me out of this circumstance. Because of surfing around through the search engines and finding opinions which are not powerful, I thought my entire life was well over. Being alive without the presence of answers to the problems you’ve solved by means of your main write-up is a crucial case, and the kind that might have negatively affected my entire career if I hadn’t come across your web site. That expertise and kindness in touching the whole thing was useful. I’m not sure what I would’ve done if I hadn’t come upon such a thing like this. I’m able to now relish my future. Thanks for your time very much for the professional and effective guide. I won’t hesitate to recommend your site to anyone who should get guide about this issue.

  • I am writing to let you know what a brilliant discovery my friend’s princess encountered visiting your web page. She came to find several issues, including what it is like to possess an incredible helping heart to let the mediocre ones effortlessly understand chosen specialized topics. You really exceeded our own expectations. I appreciate you for rendering the essential, dependable, educational and cool thoughts on this topic to Ethel.

  • Thanks a lot for providing individuals with an extremely memorable possiblity to read from this blog. It is often so pleasant plus jam-packed with amusement for me and my office friends to search the blog at least thrice in one week to find out the new guidance you will have. Not to mention, I’m actually pleased for the gorgeous tips and hints you give. Some 1 ideas on this page are ultimately the simplest we have all had.

  • A lot of thanks for your entire effort on this site. My mom delights in participating in research and it’s really easy to understand why. My spouse and i learn all about the powerful ways you create practical tips and tricks through the web site and as well as recommend contribution from others about this subject matter and my daughter is without a doubt studying a lot. Take advantage of the remaining portion of the new year. You have been performing a brilliant job.

  • I intended to send you the very small note so as to say thanks a lot over again on the beautiful techniques you have shared above. It has been quite incredibly open-handed with people like you to offer publicly all that most people could possibly have offered for sale as an e-book in making some money on their own, even more so given that you could possibly have done it if you ever considered necessary. Those ideas as well served to be the fantastic way to realize that other people have similar eagerness just like my personal own to understand more on the subject of this matter. I am certain there are thousands of more enjoyable times ahead for folks who discover your website.

  • I precisely wanted to thank you very much once again. I do not know what I could possibly have worked on without the type of methods discussed by you relating to that subject matter. This was an absolute intimidating matter in my opinion, but being able to view a expert style you handled it forced me to jump with delight. I’m thankful for this guidance and then believe you realize what a powerful job you’re undertaking teaching people today via your web site. Most likely you haven’t met all of us.

  • I needed to create you the little bit of note to help thank you as before for the nice concepts you have discussed on this page. It is quite incredibly open-handed of you in giving freely exactly what a number of us might have marketed as an ebook to generate some money for their own end, and in particular now that you could have tried it if you ever considered necessary. These basics as well served to be the good way to know that someone else have the same eagerness the same as my personal own to know the truth more and more with respect to this issue. I think there are millions of more fun opportunities ahead for individuals that look over your blog.