Home » سوشل میڈیا کو ضابطے کا پابند کرنے کے تئیں پہلا قدم
Exclusive

سوشل میڈیا کو ضابطے کا پابند کرنے کے تئیں پہلا قدم

سوشل میڈیا کو ضابطے کا پابند کرنے کے تئیں پہلا قدم
از : اے سوریہ پرکاش

ہماری بنیادی آئینی اقدار اور اظہار رائے کی آزادی کے تحفظ کی ضرورت کو پیش نظر رکھتے ہوئے ایسے بے ہودہ آن لائن مواد کو باہر رکھنے کے لئے جو تشدد اور فحاشی کو فروغ دیتا ہے، ایک متوازن ضابطہ درکار ہے ۔ ان نئے قواعد کی بنیادی اثاث ہے جنہیں مرکزی حکومت نے نیو میڈیا سے متعلق تشویشات کے ازالے کے لئے وضع کیا ہے۔

اس پالیسی نے ایک جانب آن لائن نیوز پلیٹ فارم اور پرنٹ میڈیا کے مابین ازحد اشد ضروری طور پر درکار توازن قائم کرنے کی کوشش کی ہے اس کے ساتھ ہی ساتھ دوسری جانب آن لائن اور ٹیلی ویژن نیوز میڈیا کو بھی سادھنے اور آن لائن نیوز پورٹلوں کو اخلاقیات کے ان ضوابط کے دائرے کے تحت لانے کی کوشش کی ہے جو پرنٹ میڈیا کو منظم بناتے ہیں۔ ان میں پریس کونسل ایکٹ کے ذریعہ وضع کیے گئے صحافیانہ اخلاقیات  کے اصول، کیبل ٹیلی ویژن نیٹ ورکس (ریگولیشن) قواعد 1994 جیسے قواعد و ضوابط شامل ہیں۔ یہ اس لیے بھی ضروری تھا کہ ان چند پلیٹ فارموں میں ازحد غیر ذمہ دارانہ اور لااُبالی پن پر مبنی اظہار رائے مشاہدے میں آرہا تھا۔

اس کے ساتھ ہی ساتھ، ایک طرف سنیما صنعت کے لئے ایک فلم اسناد بندی ایجنسی موجود ہے جو مخصوص ذمہ داریوں کی حامل ہے، جبکہ او ٹی ٹی پلیٹ فارموں کے لئے ایسا کوئی نظام موجود نہیں ہے۔ تاہم فنکارانہ آزادی کو یقینی بنانے کے لئے حکومت نے ازخود ضابطہ بندی کی تجویز رکھی ہے اور کہا ہے کہ او ٹی ٹی اداروں کو یکجا ہو کر ایک ضابطہ اخلاق وضع کرنا چاہئے اور مواد کی زمرہ بندی کرنی چاہئے تاکہ اس کے نتیجے میں ایک ایسا میکنزم وضع ہو سکے جس کےتحت نابالغ لوگ بالغوں کے لئے مخصوص مواد نہ دیکھ سکیں۔ انہیں ایسا نہیں کرنا چاہئے۔ شکایت کے ازالے پر مبنی اس میکنزم  کے تین پہلو ہیں، پبلشر حضرات اور سیلف ریگولیٹنگ باڈیز پہلے دو زمروں میں آتے ہیں۔ تیسرا پہلو مرکزی حکومت کی جانب سے مقرر کی جانے والی ایک مشاہداتی کمیٹی ہے۔ مجوزہ پالیسی اس بات کی متقاضی ہے کہ پبلشر حضرات اپنی جانب سے شکایات کے ازالے کے لئے افسران کا تقرر کریں اور معینہ مدت کے اندر شکایات کی موصولی کی رسید جاری کرنے اور ان کے ازالے کو یقینی بنائیں۔ اس کے بعد ایک سیلف ریگولیٹنگ باڈی ہو سکتی ہے جس کی قیادت سبکدوش جج کے ذمہ ہوگی۔

آن لائن پلیٹ فارم ان قواعد و ضوابط سے اس اندیشے کے تحت خوف زدہ رہتے ہیں جو کھاتوں کی جانچ پڑتال کرتے ہیں، رسائی پر پابندی لگانے وغیرہ کی بات کرتے ہیں، تاہم اس طرح کے تمام اندیشوں کا بھارتی قوانین کے دائرے کے تحت سدباب کیا جا ناچا ہئے۔مثال کے طور پر، جہاں ایک جانب مین اسٹریم میڈیا کو تشدد، فرقوں کے مابین عداوت، ازالہ حیثیت عرفی ، وغیرہ کے سلسلے میں ضابطہ تعزیراتِ ہند (آئی پی سی) کی تجاویز کا ادراک رہتا ہے، آن لائن پلیٹ فارم پر پیش کیے جانے والے مواد کے سلسلے میں اس پہلو کو تقریباً فراموش کر دیا جاتا ہے۔

میڈیا یا دیگر شعبوں میں سرگرم عمل خواتین پیشہ واران کے متعلق سوشل میڈیا پر پوسٹ کیے جانے والے فحش تبصرے اور رائے زنی  اور بھارتی حکومت کی جانب سے اس طرح کے برتاؤ سے نمٹنے میں ناکامی کسی بھی شخص کو حیرت میں مبتلا کر دیتی ہے اور وہ یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ کیا ضابطہ تعزیرات ہند سائبر اسپیس میں نافذ العمل نہیں ہے۔

بھارتی ڈجیٹل اور او ٹی ٹی پلیئرس آسٹریلیا میں ڈجیٹل کمپنیوں کی جانب سے اٹھائے گئے سخت اقدامات سے سبق حاصل کر سکتے ہیں جنہوں نے یکجا ہوکر ایک ضابطہ اخلاق وضع کر لیا ہے تاکہ وہ جعلی خبروں اور گمراہ کن اطلاعات سے نمٹ سکیں۔ اسے گمراہ کن اطلاعات اور غلط اطلاعات سے متعلق آسٹریلیائی ضابطہ عمل کا نام دیا گیا ہے اور اس کا اجراء حال ہی میں ڈجیٹل صنعتی گروپ کی جانب سے عمل میں آیا ہے۔

آسٹریلیا کی مواصلاتی اور میڈیا اتھارٹی (اے سی ایم اے) نے ہمیشہ پہل قدمی کا خیر مقدم کیا ہے اور کہا ہے کہ دو تہائی سے زائد آسٹریلیائی باشندے انٹرنیٹ پر ’’کیا حقیقی ہے اور کیا جعلی‘‘ کو لے کر تشویش میں مبتلا تھے۔ اس کے جواب میں اے سی ایم اے کا کہنا یہ ہے کہ ڈجیٹل پلیٹ فارموں نے ازخود ضابطہ بندی کوڈ پر اتفاق کیا تاکہ غلط اور گمراہ کن اطلاعات کے نتیجے میں رونما ہونے والے سنگین خساروں کے پھیلاؤ سے تحفظ حاصل ہو سکے۔ ڈجیٹل پلیٹ فارموں کی جانب سے ان کے وعدے کے مطابق کیے جانے والے چند اقدامات میں کھاتوں کو کالعدم بنایا جانا اور مواد کو ہٹایا جانا شامل ہے۔

برطانیہ میں، حکومت آن لائن کمپنیوں کو مہلک مواد کے لئے ذمہ دار بنانے کے سلسلے میں ایک قانون وضع کرنے کے لئے مستعد ہے اور ایسی کمپنیوں کو سزا دینے کی بات بھی اس میں شامل ہے جو اس طرح کے مواد کو ہٹانے میں  ناکام ثابت ہوں۔ مجوزہ ’آن لائن سیفٹی بل ‘ کا مقصد انٹرنیٹ استعمال کرنے والوں کا تحفظ کرنا اور ایسے پلیٹ فارموں سے سختی سے نمٹنا ہے جو اپنے ذریعہ تشدد، دہشت گردی پر مبنی مواد، بچوں کے جنسی استحصال، سائبر طریقوں سے ہراساں کرنے وغیرہ جیسے ناروا امور سے نمٹنا ہے۔ ڈجیٹل سکریٹری مسٹر اولیور ڈاؤڈین کے الفاظ کا حوالہ اس انداز میں دیا گیا، ’’میں واضح طور پر تکنالوجی کا حمایتی ہوں تاہم ا س کا مطلب یہ نہیں ہو سکتا کہ ایک تکنیکی ماہر سب کچھ کرنے کے لئے آزاد چھوڑ دیا جائے۔ ‘‘یہ نظریہ ایک معنوں میں تمام جمہوریتوں میں اس موضوع پر رواں اندازِ فکر کی ترجمانی کرتا ہے۔

برطانیہ میں، پرنٹ میڈیا، سیلف ریگولیشن سے گورن  ہوتا ہے اور نجی ٹیلی ویژن اور ریڈیو آزادانہ ٹیلی ویژن کمیشن اور ریڈیو اتھارٹی کے زیر نگرانی متعین کردہ ضوابط کے تحت کام کرتے ہیں، جس کے لئے باقاعدہ طور پر قانون میں گنجائش فراہم کی گئی ہے۔

جہاں تک ان دونوں وزراء یعنی جناب روی شنکر پرشاد، جناب پرکاش جاوڈیکر کی بات ہے، جنہوں نے حکومت کے رہنما خطوط کا اعلان کیا ، یہاں یہ بات فراموش نہیں کی جانی چاہئے کہ دونوں حضرات دوسری جدو جہد آزادی کے سورماں ہیں۔ جب یہ دونوں حضرات وزیر اعظم اندراگاندھی کے ذریعہ 1970  کی دہائی کے وسط میں نافذ کی گئی مہیب ایمرجنسی کے خلاف سینہ سپر ہو گئے تھے اور اس کی پاداش میں انہوں نے تقریباً ڈیڑھ برسوں تک قید و بند کا سامنا کیا تھا، اور جس کے نتیجے میں عوام الناس کو ان کے آئین اور جمہوریت کی بازیافت ہوئی تھی۔

واضح طور پر، بنیادی جمہوری اقدار کے تئیں ان کی وابستگی اب بھی ویسی ہے اور میڈیا کے لئے ضابطہ بندی کے معاملے میں بھی ان کی پالیسی کی تشکیل کے وقت ان کی یہ وابستگی اس پر ضرور اثر انداز ہوگی۔

آخر میں، اس فریم ورک کے بارے میں چند الفاظ کہنا مناسب ہوں گے جس کے دائرے کے تحت کمپنیوں کو بھارت میں عمل پیرا ہونا چاہئے۔ اطلاعاتی تکنالوجی کے وزیر کے طور پر جناب روی شنکر پرشاد نے کہا کہ انہیں ملکی قوانین کے مطابق عمل کرنا ہی چاہئے۔ اس سے اس بات میں کوئی شک و شبہ نہیں ہونا چاہئے اور نہ ہی اس سلسلے میں کوئی سمجھوتہ کیا جا سکتا ہے۔

حالیہ دنوں میں، ٹوئیٹر نے اظہار رائے کی آزادی کی تعریف پیش کرنے کی کوشش کی ہے اور یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ اس کا مقصد ہندوستانیوں کے اظہار رائے کی آزادی کا تحفظ ہے۔ ’’اظہار کی آزادی‘‘ ہمارے آئین میں بنیادی حقوق کے باب میں مضمر ہے تاہم اس پر ’’واجبی بندشوں ‘‘کا پہرہ بھی لگاہوا ہے۔  یہ بندشیں اس لیے لگائی گئی ہیں کہ بھارت ایک فعال جمہوریت ہے اور دنیا کا سب سے زیادہ متنوع معاشرہ ہے جہاں متعدد سماجی، سیاسی اور اقتصادی پیچیدگیاں موجود ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بھارت کے بانیان نے ازحد دروں بینی اور دور اندیشی سے کام لیتے ہوئے اظہار رائے آزادی کے مدمقابل ایک امتناعی انتباہ کا بھی انتظام کیا ہے تاکہ آئینی حقوق داخلی امن اور ہم آہنگی کو فروغ دیں۔ یہ آزادیاں اور یہ بندشیں کیا ہیں، ان کی تعریف سپریم کورٹ کی جانب سے متعدد مقدمات میں کی گئی ہے اور بھارت کی عدالت عظمیٰ کی جانب سے نافذ شدہ قانون دراصل اس ملک کا ہی قانون ہے۔ ہم نہیں چاہتے کہ چند نجی بین الاقوامی کمپنیاں اپنے طور پر اعلیٰ عدالتوں جیسا کردار ادا کرنا شروع کر دیں اور ہمارے آئین کی اپنی مرضی کے مطابق تاویل کریں۔

از : اے سوریہ پرکاش

All Time Favorite

Categories